شہر میں بستے حیوانوں سے ڈر لگتا ہے


شہر میں بستے حیوانوں سے ڈر لگتا ہے 
مجھ کو ایسےانسانوں سے ڈر لگتا ہے

اونچی ذات کا ڈھونگ رچا کر ڈستے ہیں 
اونچی ذات کے شیطانوں سے ڈر لگتا ہے

مسجد کے حجرے میں بچے مر جاتےہیں 
تیرے گھر کے دربانوں سے ڈر لگتا ہے

عورت گھر کے چولہے سے جل جاتی ہے 
مجھ کو ایسے زندانوں سے ڈر لگتا ہے

نیلما ناہید دُرانی
-1:20

Comments

Popular posts from this blog

اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ، تو میں تمہارا

تم نے مجھ کو لکھا ہے، میرے خط جلا دیجے

میرا ضمیر میرا اعتبار بولتا ہے | راحت اندوری