شہر میں بستے حیوانوں سے ڈر لگتا ہے
شہر میں بستے حیوانوں سے ڈر لگتا ہے
مجھ کو ایسےانسانوں سے ڈر لگتا ہے
اونچی ذات کا ڈھونگ رچا کر ڈستے ہیں
اونچی ذات کے شیطانوں سے ڈر لگتا ہے
مسجد کے حجرے میں بچے مر جاتےہیں
تیرے گھر کے دربانوں سے ڈر لگتا ہے
عورت گھر کے چولہے سے جل جاتی ہے
مجھ کو ایسے زندانوں سے ڈر لگتا ہے
نیلما ناہید دُرانی

Comments
Post a Comment