اے میرے شہر کے باریش مداری لوگو

اے میرے شہر کے باریش مداری لوگو
ہوس ِزر کے غلام دھن کے پجاری لوگو
حاکم ِشہر کے اے خاص حواری لوگو
قلبِ محکوم پہ اے ضربت ِ کاری لوگو
تم نے فرقوں میں ھمیں بانٹ کے اچھا نہ کیا
فائدہ قوم کا جس میں ھو کچھ ایسا نہ کیا
تو نے حق بات کا ہر گام پہ انکار کیا 
قوم و ملت کو بھی رسوا سر بازار کیا
فائدہ دیکھ کے سودا پس دیوار کیا 
کام ابلیس کا سب آپ نے سرکار کیا
ہاتھ جو کچھ بھی لگا لوٹ کے کھاتے رھے تم 
اور الٹا ھمیں دوزخ سے ڈراتے رھے تم
مال و زر کی تھی ہوس نام کا دیوانہ تھا
حق کو پہچان کے بھی تو نے نہ پہچانا تھا
حالت ِ حال سے مظلوم کے انجانا تھا 
قاتلوں سے ہی ھمیشہ تیرا یارانہ تھا
آیت حق نے تیرے بارے میں کیا خوب کہا
تمہیں فاسد تمہیں حاسد تمہیں مغضوب کہا
میں نے تاریخ کے پنوں پہ یہ تحریر پڑھی 
تیرے ھونے سے سدا ظلم کو امداد ملی 
تیرا کردار جو دیکھا تیری توقیر کھلی 
حرص و لالچ کی ہی دستار تیرے سر پہ سجی
تو کہ ھر دور میں ابلیس کا پیارا نکلا 
قتلِ شبیر میں بھی ہاتھ تمھارا نکلا
تیرے فتووں نے کیے قتل کئی روشن خو
تو نے پیھلائی ھے انسانوں میں نفرت ہر سو
دل میں موجود صنم لب پہ تیرے اللہ ھو 
اب نہ چل پائے گا ملا تیرا کوئی جادو
اب نئے دور کے انسان میں بیداری ھے 
تو ہی کیا گویا تیرے نام سے بیزاری ھے
قاف کاف___

Comments

Popular posts from this blog

اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ، تو میں تمہارا

تم نے مجھ کو لکھا ہے، میرے خط جلا دیجے

میرا ضمیر میرا اعتبار بولتا ہے | راحت اندوری