چراغ دینے لگے گا دھواں نہ چھو لینا




عرفانؔ صدیقی












    چراغ دینے لگے گا دھواں نہ چھو لینا
    تو میرا جسم کہیں میری جاں نہ چھو لینا
    زمیں چھٹی تو بھٹک جاؤ گے خلاؤں میں
    تم اڑتے اڑتے کہیں آسماں نہ چھو لینا
    نہیں تو برف سا پانی تمہیں جلا دے گا
    گلاس لیتے ہوئے انگلیاں نہ چھو لینا
    ہمارے لہجے کی شائستگی کے دھوکے میں
    ہماری باتوں کی گہرائیاں نہ چھو لینا
    اڑے تو پھر نہ ملیں گے رفاقتوں کے پرند
    شکایتوں سے بھری ٹہنیاں نہ چھو لینا
    مروتوں کو محبت نہ جاننا عرفانؔ
    تم اپنے سینے سے نوک سناں نہ چھو لینا

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    Comments

    Popular posts from this blog

    اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ، تو میں تمہارا

    تم نے مجھ کو لکھا ہے، میرے خط جلا دیجے

    میرا ضمیر میرا اعتبار بولتا ہے | راحت اندوری